100 ویمن: کیا خواتین ایک ہفتے میں دنیا بدل سکتی ہیں؟
تصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGESImage captionبی بی سی 100وومن
بی بی سی کا انعام یافتہ 100وومن سیزن ایک بار پھر نئے مراحل طے کر رہا ہے۔
فی الحال اس میں شامل صرف 60 خواتین کے نام شائع کیے گئے ہیں، جن میں پاکستانی گلوکار مومنہ مستحسن اور پاکستانی نژاد برطانوی خاتون ریشم خان، جن پر اسی سال تیزاب سے حملہ کیا گیا تھا، شامل ہیں۔
دیگر چالیس خواتین کے نام اکتوبر میں سیزن کے شروع ہونے کے بعد شائع کیے جائیں گے۔
Image captionمومنہ مستحسن
پچیس سالہ مومنہ مستحسن ایک انجنیئر ہیں، ریاضی دان اور موسیقار ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستانی کرکٹ ٹیم کی سفیر بھی ہیں۔ وہ کہتی ہیں، ’میری زندگی میں جس بات نے میری سب سے زیادہ مدد کی وہ یہ قول تھا: چیزیں تبھی بہتر ہوتی ہیں جب آپ بہتر ہوتے ہیں۔ شاید آپ کو یقین نہ آئے لیکن یہ مجھے نیو یارک میں ایک ٹیک اوے میں ایک فورچون کوکی میں تب ملا جب میں شدید ڈیپریشن کی وجہ سے ہر وقت کھانا کھاتی رہتی تھی۔ اس قول نے ایک طرح سے مجھے بیدار کر دیا۔‘
تصویر کے کاپی رائٹFACEBOOK/RESHAM KHANImage captionریشم خان
اکیس سالہ ریشم خان پاکستانی نژاد برطانوی طالب علم ہیں جس پر ان پر اکیسویں سالگرہ کے موقع پر تیزاب سے حملہ کیا گیا۔ شدید زخموں اور مشکلات کے باوجود انہوں نے بہادری اور ہمت کا مظارہ کیا اور دنیا سے چھپنے سے انکار کر دیا۔
وہ کہتی ہیں، ’جان میکسویل نے کہا تھا کہ زندگی کا 10 فیصد حصہ وہ ہے جو میرے ساتھ گزرے، 90 اور فیصد میرا ردعمل ہے۔‘
اس سال اس سیزن کا مقصد خواتین کو دنیا میں تبدیلی لانے کے لیے ان کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔
Image caption100وومن
اب تک جو نام سامنے آئے ہیں ان میں شاعرہ روپی کور، ٹی وی سٹار جِن شِنگ شامل ہیں۔
خبریں اکثر خواتین کو حراساں کیے جانے، ان کے ساتھ غیر برابری کا سلوک کیے جانے، اور زیادہ تر شعبوں میں ان کی واضح غیر موجودگی سے بھری رہتی ہیں۔ ایسے میں بی بی سی اس سال اپنے 100 وومن سیزن کے ذریعے خواتیں سے ان میں سے کچھ مسائل کے حل تلاش کرنے اور بنانے کے لیے کہہ رہا ہے۔
یہ بی بی سی 100وومن کا پانچواں سال ہے اور اس سال جن موضوعات پر فوکس کیا جا رہا ہے ان میں خواتین کی ترقی کی راہ میں سماجی دیوار، خواتین میں ناخواندگی، سڑکوں پر خواتین کو حراساں کیا جانا اور کھیلوں میں خواتین کے ساتھ جنسی بنیاد پر امتیاز شامل ہیں۔
100ویمن ہے کیا؟
100وومن ہر سال دنیا بھر سے ایک سو ایسی بااثر خواتین کو سامنے لاتا ہے جن کی زندگیاں دوسروں کے لیے مشعل راہ ہیں۔ 2017 میں بی بی سی ان خواتین سے ان مسائل کا حل ڈھونڈنے کو کہہ رہا ہے جن کا سامنے دنیا بھر میں خواتین اپنی روز مرہ کی زندگی میں کرتی ہیں۔
ہمارے قارئین، سامعین اور ناظرین کی مدد سے اس سال یہ سو خواتین ان مسائل کے حقیقی حل تلاش کریں گی۔ اگر آپ بھی اس مہم میں شامل ہونا چاہیں تو فیس بک، ٹوئٹر، اور انسٹاگرام کے ذریعے ایسا کر سکتے ہیں۔
اس فہرست میں شامل کچھ خواتین اکتوبر کے چار ہفتوں میں چار مختلف شہروں میں ان مسائل کے حل کے لیے نئے طریقے وضع کریں گی۔
100وومن کی ایڈیٹر فی اونا کریک کہتی ہیں، ’2015 میں خواتین نے دس مختلف زبانوں میں 150 مباحثوں کی میزبانی کی، 2016 میں وِکی پیڈیا پر 450 ایسی خواتین کی تفصیلات شائع کی گئیں جن کے کام کو تب تک نظر انداز کیا گیا تھا۔ اور اب اس سال ہم 100 وومن کو ایک دوسری ہی سطح پر لے جانا چاہتے ہیں۔‘
Get link
Facebook
X
Pinterest
Email
Other Apps
Comments
Popular posts from this blog
’برطانوی ماڈل کو مشرق وسطی میں سیکس کے لیے فروخت کیا جانا تھا‘ Image caption مس ایلنگ کو مبینہ طور پر 'بلیک ڈیتھ' کہلانے والے گینگ نے اغوا کر لیا تھا اٹلی میں مبینہ طور پر ایک گینگ کے ہاتھوں اغوا ہونے والی برطانوی ماڈل کو کہا گیا تھا کہ انہیں مشرق وسطی میں ’سیکس‘ کے لیے فروخت کیا جائے گا۔ یہ بات ان کے وکیل فرانسسکو پیسچی نے میڈیا کو بتائی۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ 20 سالہ کلوئی ایلنگ کو مبینہ طور پر ’بلیک ڈیتھ‘ کہلانے والے گینگ نے اغوا کر لیا تھا۔ اطالوی پولیس کا کہنا ہے کہ گینگ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص انھیں خود برطانوی سفارتخانے لے گیا تھا اور اس طرح ان کی رہائی ممکن ہوئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اس شخص نے ایسا کیوں کیا۔ 'چھ ماہ تک ہر روز وہ میرا ریپ کرتا رہا‘ جنسی غلام بنائی جانے والی خواتین کی ’پہلی‘ ویڈیو کلوئی ایلنگ ایک فوٹو شوٹ کے لیے میلان گئی تھیں جہاں انہیں مبینہ طور پر اغوا کر لیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ اطالوی پولیس نے بتایا کہ مس ایلنگ پر دو افراد نے حملہ کیا تھا اور اس کے بعد انھیں کیٹامائن کے ذریعے بیہوش کر کے اغوا ...
کیا فحش فلمیں صحت کے لیے مضر ہیں کچھ باتیں آفاقی ہوتی ہیں۔ لیکن جب تک دنیا بھر کے لوگ مختلف زبانیں بولتے رہیں گے، مختلف انواع کے کھانے کھاتے رہیں گے اور یہاں تک کے جذبات بھی مختلف قسم کے محسوس کرتے رہیں گے، فحش فلمیں دیکھتے رہیں گے۔ باوجود اس کے کہ فحش مواد کو اتنا زیادہ استعمال کیا جا رہا ہے پھر بھی معاشرے کی برائیوں کے لیے اسے ہی مورد الزام ٹھرایا جاتا ہے۔ ایک امریکی ریاست نے تو فحش مواد کو صحت عامہ کےلیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔ انٹرنیٹ کی دستیابی اور جدید قسم کے کیمروں کی فراہمی کی وجہ سے فحش مواد کی نوعیت بدل چکی ہے۔ اب اس کے موضوعات اور ان کی گہرائی میں پہلے سے زیادہ اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ مثال کے طور پر ورچوؤل ریالٹی (مجازی حقیقت) ہی کو لے لیجیے۔ اسی برس کے آغاز میں برطانیہ کی نیو کاسل یونیورسٹی کے ریسرچرز نے بتایا کہ ورچوؤل ریلیٹی کی وجہ سے اب فحش مواد دیکھنے والا صرف اُسے علحیدہ سامع کے طور پر دیکھ ہی نہیں رہا ہوتا ہے بلکہ وہ خود اس کا مرکزی کردار بھی بن جاتا ہے۔ انھوں نے انتباہ کیا کہ اس بات ک...
کیا لکڑی کے گودے سے کاروں کو ہلکا اور زیادہ مؤثر بنایا جا سکتا ہے؟ تصویر کے کاپی رائٹ GETTY IMAGES Image caption جاپان میں ہی ایسی پلاسٹک تیار کرنے پر بھی تیزی سے کام جاری ہے جو شدید درجہ حرارت کو برداشت کر سکے مستقبل کی گاڑیوں کے پرزہ جات حیران کن مواد سے بنائے جاسکیں گے یعنی لکڑی۔ جاپان میں تحقیق کار لکڑی سے ایک ایسا مضبوط مواد بنانے کی کوشش کررہے ہیں جو 10 سال کے دوران گاڑی میں سٹیل کے پرزہ جات کی جگہ لے سکے۔ جاپان میں ہی ایسی پلاسٹک تیار کرنے پر بھی تیزی سے کام جاری ہے جو شدید درجہ حرارت کو برداشت کر سکے اور انجن کے اندر دھات کے پرزوں کی جگہ استعمال ہو سکے۔ 2025 سے ڈیزل سے چلنے والی گاڑیوں پر پابندی کار چور جیمرز کا استعمال کر سکتے ہیں یہ تمام تجربات اس وسیع صنعت کا حصہ ہیں جو گاڑیوں کو ہلکا بنانا چاہتی ہے۔ تصویر کے کاپی رائٹ GETTY IMAGES Image caption پتلی گاڑیاں کم ایندھن استعمال کرتی ہیں آئی ایچ ایس مارکٹ کے پرنسپل آٹوموٹیو کومپو ننٹ انالسٹ پائلو مرٹینو کا کہنا ہے کہ ’گاڑیوں کا وزن ممکنہ حد تک کم کرنے کی جلدی پڑی ہوئی ہے، خصوصاً وہ گاڑیاں جو زیادہ آلودگی ...
Comments
Post a Comment