’برطانوی ماڈل کو مشرق وسطی میں سیکس کے لیے فروخت کیا جانا تھا‘
Image captionمس ایلنگ کو مبینہ طور پر 'بلیک ڈیتھ' کہلانے والے گینگ نے اغوا کر لیا تھا
اٹلی میں مبینہ طور پر ایک گینگ کے ہاتھوں اغوا ہونے والی برطانوی ماڈل کو کہا گیا تھا کہ انہیں مشرق وسطی میں ’سیکس‘ کے لیے فروخت کیا جائے گا۔
یہ بات ان کے وکیل فرانسسکو پیسچی نے میڈیا کو بتائی۔
خیال کیا جا رہا ہے کہ 20 سالہ کلوئی ایلنگ کو مبینہ طور پر ’بلیک ڈیتھ‘ کہلانے والے گینگ نے اغوا کر لیا تھا۔
اطالوی پولیس کا کہنا ہے کہ گینگ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص انھیں خود برطانوی سفارتخانے لے گیا تھا اور اس طرح ان کی رہائی ممکن ہوئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اس شخص نے ایسا کیوں کیا۔
کلوئی ایلنگ ایک فوٹو شوٹ کے لیے میلان گئی تھیں جہاں انہیں مبینہ طور پر اغوا کر لیا گیا تھا۔
اس کے علاوہ اطالوی پولیس نے بتایا کہ مس ایلنگ پر دو افراد نے حملہ کیا تھا اور اس کے بعد انھیں کیٹامائن کے ذریعے بیہوش کر کے اغوا کر لیا۔ پولیس کے مطابق بظاہر وہ کلوئی ایلنگ کو آن لائن بولی کے ذریعے فروخت کرنے والے تھے۔
کہا جا رہا ہے کہ مبینہ طور پر اغوا کاروں نے انھیں آن لائن دو لاکھ 30 ہزار پاؤنڈز کے عوض فروخت کرنے کی کوشش کی اور دوسری جانب ان کے ایجنٹ سے ان کی رہائی کے لیے تاوان کا مطالبہ بھی کیا۔
وکیل فرانسسکو پیسچی نے مزید بتایا کہ جنوبی لندن میں کولسڈن سے تعلق رکھنے والی ماڈل ایلنگ نے انھیں بتایا کہ انھیں ’مشرق وسطیٰ میں سیکس کے لیے فروخت کیا جانا تھا۔‘
انھوں نے مزید بتایا کہ انھیں اپنے ہی اغوا کار کے ساتھ شاپنگ کے لیے اس لیے جانا پڑا کیوں کہ انھیں جان سے مار دینے کی دھمکی دی گئی تھی۔
ان کے وکیل کا کہنا ہے کہ ایلنگ سے کہا گیا تھا کہ شاپنگ کے دوران ’وہاں کچھ لوگ موجود ہوں گے جو ان کی کسی بھی حرکت پر انھیں جان سے مار دیں گے۔‘
تصویر کے کاپی رائٹAFP/GETTY IMAGESImage captionاطالوی پولیس نے پولینڈ سے تعلق رکھنے والے مشتبہ شخص کو حراست میں لیا ہے۔
’لہذا انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اغوا کار کے ساتھ اچھا برتاؤ کریں گی کیونکہ ان سے کہا گیا تھا کہ انھیں کبھی بھی کہیں بھی رہا کیا جا سکتا ہے۔‘
مس ایلنگ کا کہنا تھا کہ انھیں ’اس دردناک تجربے کے دوران اپنی زندگی کا خوف تھا۔‘
’میں اپنی رہائی کے لیے اطالوی اور برطانوی حکام کی انتہائی شکر گزار ہوں۔‘
اطالوی پولیس کا کہنا ہے کہ مس ایلنگ کو ایک گاڑی کے ذریعے بوریگل میں ایک مکان میں لے جایا گیا جہاں انھیں چھ دنوں تک ایک کمرے میں الماری کے ساتھ باندھ کر رکھا گیا۔
پولیس نے پولینڈ سے تعلق رکھنے والے مشتبہ شخص کو حراست میں لیا ہے۔
Get link
Facebook
X
Pinterest
Email
Other Apps
Comments
Popular posts from this blog
کیا فحش فلمیں صحت کے لیے مضر ہیں کچھ باتیں آفاقی ہوتی ہیں۔ لیکن جب تک دنیا بھر کے لوگ مختلف زبانیں بولتے رہیں گے، مختلف انواع کے کھانے کھاتے رہیں گے اور یہاں تک کے جذبات بھی مختلف قسم کے محسوس کرتے رہیں گے، فحش فلمیں دیکھتے رہیں گے۔ باوجود اس کے کہ فحش مواد کو اتنا زیادہ استعمال کیا جا رہا ہے پھر بھی معاشرے کی برائیوں کے لیے اسے ہی مورد الزام ٹھرایا جاتا ہے۔ ایک امریکی ریاست نے تو فحش مواد کو صحت عامہ کےلیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔ انٹرنیٹ کی دستیابی اور جدید قسم کے کیمروں کی فراہمی کی وجہ سے فحش مواد کی نوعیت بدل چکی ہے۔ اب اس کے موضوعات اور ان کی گہرائی میں پہلے سے زیادہ اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ مثال کے طور پر ورچوؤل ریالٹی (مجازی حقیقت) ہی کو لے لیجیے۔ اسی برس کے آغاز میں برطانیہ کی نیو کاسل یونیورسٹی کے ریسرچرز نے بتایا کہ ورچوؤل ریلیٹی کی وجہ سے اب فحش مواد دیکھنے والا صرف اُسے علحیدہ سامع کے طور پر دیکھ ہی نہیں رہا ہوتا ہے بلکہ وہ خود اس کا مرکزی کردار بھی بن جاتا ہے۔ انھوں نے انتباہ کیا کہ اس بات ک...
کیا لکڑی کے گودے سے کاروں کو ہلکا اور زیادہ مؤثر بنایا جا سکتا ہے؟ تصویر کے کاپی رائٹ GETTY IMAGES Image caption جاپان میں ہی ایسی پلاسٹک تیار کرنے پر بھی تیزی سے کام جاری ہے جو شدید درجہ حرارت کو برداشت کر سکے مستقبل کی گاڑیوں کے پرزہ جات حیران کن مواد سے بنائے جاسکیں گے یعنی لکڑی۔ جاپان میں تحقیق کار لکڑی سے ایک ایسا مضبوط مواد بنانے کی کوشش کررہے ہیں جو 10 سال کے دوران گاڑی میں سٹیل کے پرزہ جات کی جگہ لے سکے۔ جاپان میں ہی ایسی پلاسٹک تیار کرنے پر بھی تیزی سے کام جاری ہے جو شدید درجہ حرارت کو برداشت کر سکے اور انجن کے اندر دھات کے پرزوں کی جگہ استعمال ہو سکے۔ 2025 سے ڈیزل سے چلنے والی گاڑیوں پر پابندی کار چور جیمرز کا استعمال کر سکتے ہیں یہ تمام تجربات اس وسیع صنعت کا حصہ ہیں جو گاڑیوں کو ہلکا بنانا چاہتی ہے۔ تصویر کے کاپی رائٹ GETTY IMAGES Image caption پتلی گاڑیاں کم ایندھن استعمال کرتی ہیں آئی ایچ ایس مارکٹ کے پرنسپل آٹوموٹیو کومپو ننٹ انالسٹ پائلو مرٹینو کا کہنا ہے کہ ’گاڑیوں کا وزن ممکنہ حد تک کم کرنے کی جلدی پڑی ہوئی ہے، خصوصاً وہ گاڑیاں جو زیادہ آلودگی ...
Comments
Post a Comment