لڑکی کو بچانے پر عاطف اسلم کی تعریف تصویر کے کاپی رائٹ SHEERAZ ASLAM Image caption عاطف اسلم نے سکیورٹی کو بلایا جنھوں نے اس لڑکی کو وہاں سے نکالا پاکستانی گلوگار عاطف اسلم کی انٹرنیٹ پر کافی تعریف کی جا رہی ہے جنھوں نے حال ہی میں اپنے کنسرٹ کے دوران شائقین کی جانب سے ایک لڑکی کو ہراساں کرنے پر نہ صرف گانا روک دیا بلکہ انھیں وہاں سے نکالا بھی۔ سنیچر کو ہونے والے اس کنسرٹ کے دوران عاطف نے اپنا لائیو گانا روک دیا اور اس ویڈیو کو ہزاروں مرتبہ شیئر کیا جا چکا ہے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ عاطف اسلم لڑکی کو پریشان کرنے والے لڑکوں سے کہہ رہے ہیں ’کیا تم نے کبھی کوئی لڑکی نہیں دیکھی۔ یہاں تمہاری ماں بہن بھی ہوسکتی تھی۔‘ پاکستان میڈیا کے مطابق کنسرٹ میں کافی زیادہ لوگ آئے تھے جہاں بہت ساری لڑکیوں کو ہراساں کیا گیا۔ عاطف اسلم نے سکیورٹی کو بلایا جنھوں نے اس لڑکی کو وہاں سے نکالا۔ سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لڑکی کو بازوؤں سے کھینچ کر سٹیج پر چڑھایا گیا۔ عاطف اسلم کے اس...
Posts
Showing posts from October, 2017
- Get link
- X
- Other Apps
’سائبر کرائم کا قانون اب کیوں یاد آ رہا ہے؟‘ سوشلستان میں کُلبھوشن جادھو کے موضوع پر بہت ساری ٹویٹس کی جا رہی ہیں اور اس کے علاوہ کوئٹہ والوں نے نواز شریف کو 'ریجیکٹ' کر دیا ہے کیونکہ جہاں جہاں پی ٹی آئی جلسہ کرتی ہے اس شہر کے ساتھ پارٹی کے سوشل میڈیا کے سرگرم کارکن 'ریجیکشن' لگا کر ٹرینڈز بناتے ہیں۔ دوسری جانب پاکستان نے آئی سی جے کو 'ریجیکٹ' کر دیا ہے۔ ٹوئٹر پر اتنی ریجیکشن ہونے لگی ہے کہ ٹوئٹر اب وہ ٹوئٹر ہی نہیں لگتا۔ مگر اس ہفتے ہم بات کریں گے سائبر کرائم بل اور اس کے حوالے سے تحفظات کی۔ سائبر کرائم بل پر پی ٹی آئی اے تحفظات تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER Image caption پی ٹی آئی بلوچستان کے رہنما سالار کے ساتھ گذشتہ دنوں پی ٹی آئی اے کے چیئرمین عمران خان نے ٹویٹ کی کہ 'حکومت سائبر کرائم قوانین کا ناجائز استعمال کر کے پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا کے کارکنوں کو سیاسی طور نشانہ بنا رہی ہے۔ ایک جمہوریت میں یہ ناقابلِ قبول ہے۔' عمران خان کا اشارہ سالار سلطانزئی کی جانب تھا جو پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم کا حصہ ہیں اور جنہیں وفاقی تحقیقاتی ادار...
- Get link
- X
- Other Apps
’فیس بک پر خواتین سب سے زیادہ ہراساں ہو رہی ہیں‘ تصویر کے کاپی رائٹ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق انٹرنیٹ استعمال کرنے والی 34 فیصد خواتین مردوں کے ہاتھوں آن لائن ہراساں ہو رہی ہیں اور ان میں سب سے زیادہ تعداد کوئٹہ، کراچی، لاہور، اسلام آباد اور ملتان کی خواتین کی ہے۔ ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن پاکستان نے گذشتہ ایک سال میں پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان اور گلگت سے 1400 خواتین کو آن لائن ہراساں کیے جانے اور ڈیجیٹل سکیورٹی سے متعلق آگاہی دی ہے اور پھر ان کے انٹرویو کیے۔ ’سائبر کرائم کا قانون اب کیوں یاد آ رہا ہے؟‘ سروے کے نتائج کے مطابق 70 فیصد سے زائد خواتین کو پاکستانی سائبر قوانین کا علم ہی نہیں جبکہ ملک کا آئین اور 2016 میں بنایا گیا 'پریوینشن آف الیکٹرونکس کرائم ایکٹ' ہر پاکستانی کو اس حوالے سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔ تصویر کے کاپی رائٹ DIGITAL RIGHTS FOUNDATION بلاشبہ پچھلے چند سالوں میں انٹرنیٹ تک رسائی اور موبائل ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھ گیا ہے لیکن اس میں جنسی فرق وا...
- Get link
- X
- Other Apps
یونیورسٹیوں میں طالبات کو ہراساں کرنے کے واقعات میں اضافہ تصویر کے کاپی رائٹ AFP Image caption پشاور یونیورسٹی کی انتظامیہ نے کہا ہے کہ حالیہ دنوں میں کیمپس کی حدود میں طالبات کو ہراساں کرنے کا کوئی نیا واقعہ رپورٹ نہیں ہوا (فائل فوٹو) پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے اعلیٰ سرکاری تعلیمی اداروں میں گذشتہ کچھ عرصے سے طالبات کو جنسی طورپر ہراساں کرنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور پچھلے سات ماہ میں 100 سے زیادہ ایسے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس میں طالبات کو ہراساں کرنے کی کوشش کی گئی۔ خیبر پختونخوا میں خواتین کی حقوق کے لیے سرگرم غیر سرکاری تنظیم 'دا حوا لور' یعنی حوا کی بیٹی کی طرف سے جاری کردہ معلومات کے مطابق صوبے کی تین بڑی سرکاری تعلیمی درس گاہوں پشاور یونیورسٹی، انجنیئرنگ یونیورسٹی اور خیبر میڈیکل کالج میں کچھ عرصے سے ایسے واقعات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ * ’فیس بک پر خواتین سب سے زیادہ ہراساں ہو رہی ہیں‘ دا حوا لور تنظیم کی سربراہ خورشید بانو نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ تقریباً سات ماہ کے دوران ان کی تنظیم کو 100 سے زیادہ ایسی شکایاتیں موصول ہوئی ہیں ...
- Get link
- X
- Other Apps
متحدہ عرب امارات میں پاکستان کا ریکارڈ خطرے میں تصویر کے کاپی رائٹ AFP پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا دوسرا اور آخری ٹیسٹ آج سے دبئی میں شروع ہو رہا ہے۔ یہ سری لنکن ٹیم کا پہلا ڈے نائٹ ٹیسٹ میچ ہے جو وہ گلابی گیند سے کھیلے گی۔ پاکستانی ٹیم کا یہ تیسرا ڈے نائٹ ٹیسٹ میچ ہے۔ اس سے قبل اس نے ویسٹ انڈیز کے خلاف دبئی اور آسٹریلیا کے خلاف برسبین میں گلابی گیند کے ساتھ ٹیسٹ میچ کھیلے تھے۔ تیسرے نمبر پر بیٹنگ کرنے کا فیصلہ ٹیم کا تھا : اظہرعلی ہیرتھ کے خلاف جارحانہ حکمت عملی کی ضرورت ہے: مصباح الحق سری لنکی کی پہلے ٹیسٹ میچ 21 رنز سے فتح سری لنکا کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں پاکستانی ٹیم ایک صفر کے خسارے میں ہے۔ ابوظہبی میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میں پاکستان کو 21 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا جس کے بعد پاکستان کا متحدہ عرب امارات میں کھیلی گئی ٹیسٹ سیریز میں ناقابل شکست رہنے کا ریکارڈ خطرے میں ہے۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم متحدہ عرب امارات میں ابھی تک کوئی ٹیسٹ سیریز نہیں ہاری ہے۔ اس نے یہاں پانچ ٹیسٹ سیریز جیتی ہیں جبکہ چار برابری پر ختم ہوئی ہیں۔ ...
- Get link
- X
- Other Apps
’برطانوی ماڈل کو مشرق وسطی میں سیکس کے لیے فروخت کیا جانا تھا‘ Image caption مس ایلنگ کو مبینہ طور پر 'بلیک ڈیتھ' کہلانے والے گینگ نے اغوا کر لیا تھا اٹلی میں مبینہ طور پر ایک گینگ کے ہاتھوں اغوا ہونے والی برطانوی ماڈل کو کہا گیا تھا کہ انہیں مشرق وسطی میں ’سیکس‘ کے لیے فروخت کیا جائے گا۔ یہ بات ان کے وکیل فرانسسکو پیسچی نے میڈیا کو بتائی۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ 20 سالہ کلوئی ایلنگ کو مبینہ طور پر ’بلیک ڈیتھ‘ کہلانے والے گینگ نے اغوا کر لیا تھا۔ اطالوی پولیس کا کہنا ہے کہ گینگ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص انھیں خود برطانوی سفارتخانے لے گیا تھا اور اس طرح ان کی رہائی ممکن ہوئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اس شخص نے ایسا کیوں کیا۔ 'چھ ماہ تک ہر روز وہ میرا ریپ کرتا رہا‘ جنسی غلام بنائی جانے والی خواتین کی ’پہلی‘ ویڈیو کلوئی ایلنگ ایک فوٹو شوٹ کے لیے میلان گئی تھیں جہاں انہیں مبینہ طور پر اغوا کر لیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ اطالوی پولیس نے بتایا کہ مس ایلنگ پر دو افراد نے حملہ کیا تھا اور اس کے بعد انھیں کیٹامائن کے ذریعے بیہوش کر کے اغوا ...
- Get link
- X
- Other Apps
100 ویمن: کیا خواتین ایک ہفتے میں دنیا بدل سکتی ہیں؟ تصویر کے کاپی رائٹ GETTY IMAGES Image caption بی بی سی 100وومن بی بی سی کا انعام یافتہ 100وومن سیزن ایک بار پھر نئے مراحل طے کر رہا ہے۔ فی الحال اس میں شامل صرف 60 خواتین کے نام شائع کیے گئے ہیں، جن میں پاکستانی گلوکار مومنہ مستحسن اور پاکستانی نژاد برطانوی خاتون ریشم خان، جن پر اسی سال تیزاب سے حملہ کیا گیا تھا، شامل ہیں۔ دیگر چالیس خواتین کے نام اکتوبر میں سیزن کے شروع ہونے کے بعد شائع کیے جائیں گے۔ Image caption مومنہ مستحسن پچیس سالہ مومنہ مستحسن ایک انجنیئر ہیں، ریاضی دان اور موسیقار ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستانی کرکٹ ٹیم کی سفیر بھی ہیں۔ وہ کہتی ہیں، ’میری زندگی میں جس بات نے میری سب سے زیادہ مدد کی وہ یہ قول تھا: چیزیں تبھی بہتر ہوتی ہیں جب آپ بہتر ہوتے ہیں۔ شاید آپ کو یقین نہ آئے لیکن یہ مجھے نیو یارک میں ایک ٹیک اوے میں ایک فورچون کوکی میں تب ملا جب میں شدید ڈیپریشن کی وجہ سے ہر وقت کھانا کھاتی رہتی تھی۔ اس قول نے ایک طرح سے مجھے بیدار کر دیا۔‘ تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK/RESHAM KHAN Image caption ریشم خان اکیس سالہ ر...